EN हिंदी
فاطمہ حسن شیاری | شیح شیری

فاطمہ حسن شیر

25 شیر

سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا
وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا

فاطمہ حسن




میں نے ماں کا لباس جب پہنا
مجھ کو تتلی نے اپنے رنگ دیے

فاطمہ حسن




میں نے پہنچایا اسے جیت کے ہر خانے میں
میری بازی تھی مری مات سمجھتا ہی نہیں

فاطمہ حسن




مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہے
بچا کے صحن میں لیکن شجر بھی رکھنا ہے

فاطمہ حسن




پہچان جن سے تھی وہ حوالے مٹا دیے
اس نے کتاب ذات کا صفحہ بدل دیا

فاطمہ حسن




پوری نہ ادھوری ہوں نہ کم تر ہوں نہ برتر
انسان ہوں انسان کے معیار میں دیکھیں

فاطمہ حسن




رات دریچے تک آ کر رک جاتی ہے
بند آنکھوں میں اس کا چہرہ رہتا ہے

فاطمہ حسن




ٹھیس کچھ ایسی لگی ہے کہ بکھرنا ہے اسے
دل میں دھڑکن کی جگہ درد ہے اور جان نہیں

فاطمہ حسن




اس کے پیالے میں زہر ہے کہ شراب
کیسے معلوم ہو بغیر پیے

فاطمہ حسن