مرے ہجر کے فیصلے سے ڈرو تم
میں خود میں عجب حوصلہ دیکھتی ہوں
فریحہ نقوی
زمانے اب ترے مد مقابل
کوئی کمزور سی عورت نہیں ہے
فریحہ نقوی
وہ خدا ہے تو بھلا اس سے شکایت کیسی؟
مقتدر ہے وہ ستم مجھ پہ جو ڈھانا چاہے
فریحہ نقوی
اس کی جانب سے بڑھا ایک قدم
میرے سو سال بڑھا دیتا ہے
فریحہ نقوی
تمہیں پتا ہے مرے ہاتھ کی لکیروں میں
تمہارے نام کے سارے حروف بنتے ہیں
فریحہ نقوی
تمہیں پانے کی حیثیت نہیں ہے
مگر کھونے کی بھی ہمت نہیں ہے
فریحہ نقوی
تمہارے رنگ پھیکے پڑ گئے ناں؟
مری آنکھوں کی ویرانی کے آگے
فریحہ نقوی
تم مری وحشتوں کے ساتھی تھے
کوئی آسان تھا تمہیں کھونا؟
فریحہ نقوی
رات سے ایک سوچ میں گم ہوں
کس بہانے تجھے کہوں آ جا
فریحہ نقوی

