EN हिंदी
فیصل عجمی شیاری | شیح شیری

فیصل عجمی شیر

20 شیر

کیا علم کہ روتے ہوں تو مر جاتے ہوں فیصلؔ
وہ لوگ جو آنکھوں کو کبھی نم نہیں کرتے

فیصل عجمی




آج پھر آئینہ دیکھا ہے کئی سال کے بعد
کہیں اس بار بھی عجلت تو نہیں کی گئی ہے

فیصل عجمی




کبھی دیکھا ہی نہیں اس نے پریشاں مجھ کو
میں کہ رہتا ہوں سدا اپنی نگہبانی میں

فیصل عجمی




کبھی بھلایا کبھی یاد کر لیا اس کو
یہ کام ہے تو بہت مجھ سے کام اس نے لیا

فیصل عجمی




جسم تھکتا نہیں چلنے سے کہ وحشت کا سفر
خواب میں نقل مکانی کی طرح ہوتا ہے

فیصل عجمی




حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے
پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے

فیصل عجمی




فیصلؔ مکالمہ تھا ہواؤں کا پھول سے
وہ شور تھا کہ مجھ سے سنا تک نہیں گیا

فیصل عجمی




چند خوشیوں کو بہم کرنے میں
آدمی کتنا بکھر جاتا ہے

فیصل عجمی




عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہے
محبتوں کو کوئی بد دعا لگی ہوئی ہے

فیصل عجمی