روز آسیب آتے جاتے ہیں
ایسا کیا ہے غریب خانے میں
فیصل عجمی
کیا علم کہ روتے ہوں تو مر جاتے ہوں فیصلؔ
وہ لوگ جو آنکھوں کو کبھی نم نہیں کرتے
فیصل عجمی
میں سو گیا تو کوئی نیند سے اٹھا مجھ میں
پھر اپنے ہاتھ میں سب انتظام اس نے لیا
فیصل عجمی
میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا
معاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا
فیصل عجمی
رات ستاروں والی تھی اور دھوپ بھرا تھا دن
جب تک آنکھیں دیکھ رہی تھیں منظر اچھے تھے
فیصل عجمی
تو خواب دگر ہے تری تدفین کہاں ہو
دل میں تو کسی اور کو دفنایا ہوا ہے
فیصل عجمی
اس کو جانے دے اگر جاتا ہے
زہر کم ہو تو اتر جاتا ہے
فیصل عجمی
ٹوٹتا ہے تو ٹوٹ جانے دو
آئنے سے نکل رہا ہوں میں
فیصل عجمی
خوف غرقاب ہو گیا فیصلؔ
اب سمندر پہ چل رہا ہوں میں
فیصل عجمی

