ملتا نہیں خود اپنے قدم کا نشاں مجھے
کن مرحلوں میں چھوڑ گیا کارواں مجھے
چندر بھان خیال
وہ جہاں چاہے چلا جائے یہ اس کا اختیار
سوچنا یہ ہے کہ میں خود کو کہاں لے جاؤں گا
چندر بھان خیال
وقت اور حالات پر کیا تبصرہ کیجے کہ جب
ایک الجھن دوسری الجھن کو سلجھانے لگے
چندر بھان خیال
تم جسے سمجھے ہو دنیا اس کے آنچل کے تلے
گیسوؤں کے پیچ اور خم کے سوا کچھ بھی نہیں
چندر بھان خیال
تیری پرچھائیں سمٹتی جائے گی
جیسے جیسے پھیلتا جائے گا تو
چندر بھان خیال
صبح آتی ہے دبے پاؤں چلی جاتی ہے
گھیر لیتا ہے مجھے شام ڈھلے سناٹا
چندر بھان خیال
سوچتا ہوں تو اور بڑھتی ہے
زندگی ہے کہ پیاس ہے کوئی
چندر بھان خیال
شہر میں جرم و حوادث اس قدر ہیں آج کل
اب تو گھر میں بیٹھ کر بھی لوگ گھبرانے لگے
چندر بھان خیال
پاس سے دیکھا تو جانا کس قدر مغموم ہیں
ان گنت چہرے کہ جن کو شادماں سمجھا تھا میں
چندر بھان خیال

