EN हिंदी
بیدم شاہ وارثی شیاری | شیح شیری

بیدم شاہ وارثی شیر

17 شیر

جو سنتا ہوں سنتا ہوں میں اپنی خموشی سے
جو کہتی ہے کہتی ہے مجھ سے مری خاموشی

بیدم شاہ وارثی




وہ قلقل مینا میں چرچے مری توبہ کے
اور شیشہ و ساغر کی مے خانے میں سرگوشی

بیدم شاہ وارثی




تم جو چاہو تو مرے درد کا درماں ہو جائے
ورنہ مشکل ہے کہ مشکل مری آساں ہو جائے

بیدم شاہ وارثی




طور مجنوں کی نگاہوں کے بتاتے ہیں ہمیں
اسی لیلیٰ میں ہے اک دوسری لیلیٰ دیکھو

بیدم شاہ وارثی




سب نے غربت میں مجھ کو چھوڑ دیا
اک مری بے کسی نہیں جاتی

بیدم شاہ وارثی




مرے ناشاد رہنے سے اگر تجھ کو مسرت ہے
تو میں ناشاد ہی اچھا مجھے ناشاد رہنے دے

بیدم شاہ وارثی




مرے درد نہاں کا حال محتاج بیاں کیوں ہو
جو لفظوں کا ہو مجموعہ وہ میری داستاں کیوں ہو

بیدم شاہ وارثی




کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے

بیدم شاہ وارثی




کہاں ایمان کس کا کفر اور دیر و حرم کیسے
ترے ہوتے ہوئے اے جاں خیال دو جہاں کیوں ہو

بیدم شاہ وارثی