EN हिंदी
عزیز فیصل شیاری | شیح شیری

عزیز فیصل شیر

20 شیر

میں ایک بوری میں لایا ہوں بھر کے مونگ پھلی
کسی کے ساتھ دسمبر کی رات کاٹنی ہے

عزیز فیصل




ایسے بندوں کو جانتا ہوں میں
جن کا واحد علاج مالش ہے

عزیز فیصل




کتنی مزاحیہ ہے یہ بوتل کے جن کی بات
آقا اب انقلاب ہے دو چار دن کی بات

عزیز فیصل




عشق میں یہ تفرقہ بازی بہت معیوب ہے
پیار کو شیعہ وہابی اور سنی مت سمجھ

عزیز فیصل




ہے کامیابیٔ مرداں میں ہاتھ عورت کا
مگر تو ایک ہی عورت پہ انحصار نہ کر

عزیز فیصل




دو خط بنام زوجہ و جاناں لکھے مگر
دونوں خطوں کا اس سے لفافہ بدل گیا

عزیز فیصل




دے رہے ہیں اس لیے جنگل میں دھرنا جانور
ایک چوہے کو رہائش کے لیے بل چاہیئے

عزیز فیصل




دس بارہ غزلیات جو رکھتا ہے جیب میں
بزم سخن میں ہے وہ نشانی وبال کی

عزیز فیصل




کیبل پہ ایک شیف سے جلدی میں سیکھ کر
لائی وہ شملہ مرچ کا حلوہ مرے لیے

عزیز فیصل