وے بالوں میں کلر لگوا چکا ہے
یہ دھوکہ پانچ سو میں کھا چکا ہے
عزیز فیصل
میں ایک بوری میں لایا ہوں بھر کے مونگ پھلی
کسی کے ساتھ دسمبر کی رات کاٹنی ہے
عزیز فیصل
مورخ لکھ نہ دیں سقراط مجھ کو
میں لسی کا پیالہ پی رہا ہوں
عزیز فیصل
نہ یہ قانون کام آیا تھا رانجھے کے ذرا سا بھی
اسی کو بھینس ملتی ہے ہو جس کے ہاتھ میں لاٹھی
عزیز فیصل
تھکا ہارا نکل کر گھر سے اپنے
وہ پیر آفس میں سونے جا چکا ہے
عزیز فیصل
وہ ساڑی جیولری کے تحائف پہ تھی بضد
ہم سو روپے کی شال سے آگے نہیں گئے
عزیز فیصل
یہ دیا میسج ٹوئیٹر پر فسادی شخص نے
اس کو جلتی کے لیے فی الفور آئل چاہیئے
عزیز فیصل
وہ تیس سال سے ہے فقط بیس سال کی
چہرے پہ آ چکی ہے بزرگی جمال کی
عزیز فیصل
کودے ہیں اس کے صحن میں دو چار شیر دل
ہم فیس بک کی وال سے آگے نہیں گئے
عزیز فیصل

