جی نہ سکوں میں جس کے بغیر
اکثر یاد نہ آیا وہ
اطہر نفیس
یہ دھوپ تو ہر رخ سے پریشاں کرے گی
کیوں ڈھونڈ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ
اطہر نفیس
وہ دور قریب آ رہا ہے
جب داد ہنر نہ مل سکے گی
اطہر نفیس
اس نے مری نگاہ کے سارے سخن سمجھ لیے
پھر بھی مری نگاہ میں ایک سوال ہے نیا
اطہر نفیس
میں تیرے قریب آتے آتے
کچھ اور بھی دور ہو گیا ہوں
اطہر نفیس
لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں
میں اپنے وجود کی سزا ہوں
اطہر نفیس
کسی نا خواندہ بوڑھے کی طرح خط اس کا پڑھتا ہوں
کہ سو سو بار اک اک لفظ سے انگلی گزرتی ہے
اطہر نفیس
خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ
اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں
اطہر نفیس
کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا
ہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا
اطہر نفیس

