پرانے وقتوں کے کچھ لوگ اب بھی کہتے ہیں
بڑا وہی ہے جو دشمن کو بھی معاف کرے
اختر شاہجہانپوری
ذرا یادوں کے ہی پتھر اچھالو
نواح جاں میں سناٹے بہت ہیں
اختر شاہجہانپوری
یہ منصفان شہر ہیں یہ پاسبان شہر
ان کو بتاؤ نام جو بلوائیوں کے ہیں
اختر شاہجہانپوری
یہ معجزہ ہمارے ہی طرز بیاں کا تھا
اس نے وہ سن لیا تھا جو ہم نے کہا نہ تھا
اختر شاہجہانپوری
یہ بھی کیا بات کہ میں تیری انا کی خاطر
تیری قامت سے زیادہ ترا سایا چاہوں
اختر شاہجہانپوری
وہ جگنو ہو ستارہ ہو کہ آنسو
اندھیرے میں سبھی مہتاب سے ہیں
اختر شاہجہانپوری
وہ اک لمحہ جو تیرے وصل کا تھا
بیاض ہجر پر لکھا ہوا ہے
اختر شاہجہانپوری
تمہارے خط کبھی پڑھنا کبھی ترتیب سے رکھنا
عجب مشغولیت رہتی ہے بیکاری کے موسم میں
اختر شاہجہانپوری
رنج و غم ٹھوکریں مایوسی گھٹن بے زاری
میرے خوابوں کی یہ تعبیر بھی ہو سکتی ہے
اختر شاہجہانپوری

