EN हिंदी
اختر مسلمی شیاری | شیح شیری

اختر مسلمی شیر

24 شیر

مرے دل پہ ہاتھ رکھ کر مجھے دینے والے تسکیں
کہیں دل کی دھڑکنوں سے تجھے چوٹ آ نہ جائے

اختر مسلمی




میرے کردار میں مضمر ہے تمہارا کردار
دیکھ کر کیوں مری تصویر خفا ہو تم لوگ

اختر مسلمی




لذت درد ملی جرم محبت میں اسے
وہ سزا پائی ہے دل نے کہ خطا جھوم اٹھی

اختر مسلمی




عجیب الجھن میں تو نے ڈالا مجھے بھی اے گردش زمانہ
سکون ملتا نہیں قفس میں نہ راس آتا ہے آشیانہ

اختر مسلمی




خوشی ہی شرط نہیں لطف زندگی کے لیے
متاع غم بھی ضروری ہے آدمی کے لیے

اختر مسلمی




جو با خبر تھے وہ دیتے رہے فریب مجھے
ترا پتہ جو ملا ایک بے خبر سے ملا

اختر مسلمی




اقرار محبت تو بڑی بات ہے لیکن
انکار محبت کی ادا اور ہی کچھ ہے

اختر مسلمی




انصاف کے پردے میں یہ کیا ظلم ہے یارو
دیتے ہو سزا اور خطا اور ہی کچھ ہے

اختر مسلمی




ہر شاخ چمن ہے افسردہ ہر پھول کا چہرہ پژمردہ
آغاز ہی جب ایسا ہے تو پھر انجام بہاراں کیا ہوگا

اختر مسلمی