EN हिंदी
عین تابش شیاری | شیح شیری

عین تابش شیر

13 شیر

آج بھی اس کے مرے بیچ ہے دنیا حائل
آج بھی اس کے مرے بیچ کی مشکل ہے وہی

عین تابش




بے ہنر دیکھ نہ سکتے تھے مگر دیکھنے آئے
دیکھ سکتے تھے مگر اہل ہنر دیکھ نہ پائے

عین تابش




ایک بستی تھی ہوئی وقت کے اندوہ میں گم
چاہنے والے بہت اپنے پرانے تھے ادھر

عین تابش




ایک خوشبو تھی جو ملبوس پہ تابندہ تھی
ایک موسم تھا مرے سر پہ جو طوفانی تھا

عین تابش




ہے ایک ہی لمحہ جو کہیں وصل کہیں ہجر
تکلیف کسی کے لیے آرام کسی کا

عین تابش




ہر ایسے ویسے سے قفل قفس نہیں کھلتا
اس امتحاں کے لیے کچھ حقیر ہوتے ہیں

عین تابش




اک ذرا چین بھی لیتے نہیں تابش صاحب
ملک غم سے نئے فرمان نکل آتے ہیں

عین تابش




اسی قدر ہے حیات و اجل کے بیچ کا فرق
یہ ایک دھوپ کا دریا وہ اک کنارۂ شام

عین تابش




جی لگا رکھا ہے یوں تعبیر کے اوہام سے
زندگی کیا ہے میاں بس ایک گھر خوابوں کا ہے

عین تابش