میں سانس سانس ہوں گھائل یہ کون مانے گا
بدن پہ چوٹ کا کوئی نشان بھی تو نہیں
احمد وصی
یوں جاگنے لگے تری یادوں کے سلسلے
سورج گلی گلی سے نکلتا دکھائی دے
احمد وصی
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے
احمد وصی
تمہیں تمہارے علاوہ بھی کچھ نظر آئے
گر اپنے آئنہ خانوں سے تم نکل آ آؤ
احمد وصی
تجھ سے سمجھوتے کی ہے شرط یہی اے دنیا
جب اشارہ میں کروں میری طرف تو آئے
احمد وصی
تھک کے یوں پچھلے پہر سو گیا میرا احساس
رات بھر شہر میں آوارہ پھرا ہو جیسے
احمد وصی
روتی آنکھوں کو ہنسانے کا ہنر لے کے چلو
گھر سے نکلو تو یہ سامان سفر لے کے چلو
احمد وصی
پھر چاندنی لگے تری پرچھائیں کی طرح
پھر چاند تیری شکل میں ڈھلتا دکھائی دے
احمد وصی
مدت کے بعد آئنہ کل سامنے پڑا
دیکھی جو اپنی شکل تو چہرہ اتر گیا
احمد وصی

