تخلیق خود کیا تھا کل اپنے میں ایک گھر
اب گھر سے خلق چند مکیں کر رہے ہیں ہم
احمد صغیر صدیقی
کسی صورت یہ نکتہ چینیاں کچھ رنگ تو لائیں
چلو یوں ہی سہی اب نام تو مشہور ہے میرا
احمد صغیر صدیقی
کوئی تصویر بنا لے کہ تجھے یاد رہیں
تیز چلتی ہے ہوا رنگ اڑے جاتے ہیں
احمد صغیر صدیقی
کچھ دیر میں یہ دل کسی گنتی میں نہ ہوگا
بیتاب بہت رائے شماری کے لیے ہے
احمد صغیر صدیقی
پردہ جو اٹھا دیا گیا ہے
کیا تھا کہ چھپا دیا گیا ہے
احمد صغیر صدیقی
ساری دنیا سے الگ وحشت دل ہے اپنی
یہ کہ لگتی ہے نہ گھر کی نہ بیاباں والی
احمد صغیر صدیقی
سنتا ہے یہاں کون سمجھتا ہے یہاں کون
یہ شغل سخن وقت گزاری کے لیے ہے
احمد صغیر صدیقی
یہ کیا کہ عاشقی میں بھی فکر زیاں رہے
دامن کا چاک تا بہ جگر جانا چاہیے
احمد صغیر صدیقی
زخم اتنے ہیں بدن پر کہ کہیں درد نہیں
ہم بھی پتھراؤ میں پتھر کے ہوئے جاتے ہیں
احمد صغیر صدیقی

