مری عادت مجھے پاگل نہیں ہونے دیتی
لوگ تو اب بھی سمجھتے ہیں کہ گھر جاتا ہوں
احمد کمال پروازی
وہ اپنے حسن کی خیرات دینے والے ہیں
تمام جسم کو کاسہ بنا کے چلنا ہے
احمد کمال پروازی
تمہارے وصل کا جس دن کوئی امکان ہوتا ہے
میں اس دن روزہ رکھتا ہوں برائی چھوڑ دیتا ہوں
احمد کمال پروازی
تم مرے ساتھ ہو یہ سچ تو نہیں ہے لیکن
میں اگر جھوٹ نہ بولوں تو اکیلا ہو جاؤں
احمد کمال پروازی
تجھ سے بچھڑوں تو تری ذات کا حصہ ہو جاؤں
جس سے مرتا ہوں اسی زہر سے اچھا ہو جاؤں
احمد کمال پروازی
تجھ سے بچھڑوں تو تری ذات کا حصہ ہو جاؤں
جس سے مرتا ہوں اسی زہر سے اچھا ہو جاؤں
احمد کمال پروازی
تنہائی سے بچاؤ کی صورت نہیں کروں
مر جاؤں کیا کسی سے محبت نہیں کروں
احمد کمال پروازی
رفاقتوں کا توازن اگر بگڑ جائے
خموشیوں کے تعاون سے گھر چلا لینا
احمد کمال پروازی
نہ جانے کیا خرابی آ گئی ہے میرے لہجے میں
نہ جانے کیوں مری آواز بوجھل ہوتی رہتی ہے
احمد کمال پروازی

