موجد جو نور کا ہے وہ میرا چراغ ہے
پروانہ ہوں میں انجمن کائنات کا
آغا حجو شرف
کبھی جو یار کو دیکھا تو خواب میں دیکھا
مری مراد بھی آئی تو مستعار آئی
آغا حجو شرف
کہا جو میں نے میرے دل کی اک تصویر کھنچوا دو
منگا کر رکھ دیا اک شیشہ چکناچور پہلو میں
آغا حجو شرف
خلوت سرائے یار میں پہنچے گا کیا کوئی
وہ بند و بست ہے کہ ہوا کا گزر نہیں
آغا حجو شرف
کیا بجھائے گا مرے دل کی لگی وہ شعلہ رو
دوڑتا ہے جو لگا کے آگ پانی کے لئے
آغا حجو شرف
کیا خدا ہیں جو بلائیں تو وہ آ ہی نہ سکیں
ہم یہ کہتے ہیں کہ آ جائیں تو جا ہی نہ سکیں
آغا حجو شرف
لکھا ہے جو تقدیر میں ہوگا وہی اے دل
شرمندہ نہ کرنا مجھے تو دست دعا کا
آغا حجو شرف
شاخ گل جھوم کے گل زار میں سیدھی جو ہوئی
پھر گیا آنکھ میں نقشہ تری انگڑائی کا
آغا حجو شرف
تو نہیں ملتی تو ہم بھی تجھ کو ملنے کے نہیں
تفرقہ آپس میں اے عمر رواں اچھا نہیں
آغا حجو شرف

