EN हिंदी
عازم کوہلی شیاری | شیح شیری

عازم کوہلی شیر

21 شیر

رنگ آ جاتا تھا ان کی دید سے رخ پر مرے
دیکھ کر اب وہ بھی مجھ کو سرخ رو ہونے لگے

عازم کوہلی




میں جی بھر کے رویا تو آرام آیا
مرا غم ہی آخر مرے کام آیا

عازم کوہلی




مرے ہر زخم پر اک داستاں تھی اس کے ظلموں کی
مرے خوں بار دل پر اس کے ہاتھوں کا نشاں بھی تھا

عازم کوہلی




محبت کرنے والے درد میں تنہا نہیں ہوتے
جو روٹھو گے کبھی مجھ سے تو اپنا دل دکھاؤ گے

عازم کوہلی




مجھے عیاریاں سب آ گئی ہیں
میں اب تیرے نگر کا ہو گیا ہوں

عازم کوہلی




نیلا امبر چاند ستارے بچوں کی جاگیریں ہیں
اپنی دنیا میں تو بس دیواریں ہی زنجیریں ہیں

عازم کوہلی




وہ جاتے جاتے مجھے اپنے غم بھی سونپ گیا
عجیب ڈھنگ نکالا ہے غم گساری کا

عازم کوہلی




زندگی سندر غزل ہے دوستو
زندگی کو گنگنانا چاہئے

عازم کوہلی




یہ کیا ہوا کہ اب تجھی سے بد گماں میں ہو گیا
میں سوچتا تھا زندگی تو مجھ کو راس آ گئی

عازم کوہلی