EN हिंदी
وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہے | شیح شیری
wo bakra phir akela paD gaya hai

نظم

وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہے

شارق کیفی

;

وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہے
کہ مرا ہاتھ بھی ڈونگے میں اچھی بوٹیوں کو ڈھونڈتا ہے

وہی بکرا
کھڑا رکھا گیا ہے جس کو کونے میں نگاہوں سے چھپا کر

وہ جس کی زندگی ہے منحصر اس بات پر
کہ ہم کھائیں گے کتنا

اور کتنا چھوڑ دیں گے بس یوں ہی اپنی پلیٹوں میں
ابھی کچھ دیر پہلے میں کھڑا تھا پاس جس کے

اور جس کے زاویے سے دیکھ کر محفل کو
آنکھیں ڈبڈبا آئی تھیں میری

مگر وہ پل کبھی کا جا چکا تھا
کہ اب ہوں میز پر میں

اور میرا ہاتھ بھی ڈونگے میں اچھی بوٹیوں کو ڈھونڈتا ہے
وہ بکر پھر اکیلا پڑ گیا ہے