EN हिंदी
واماندگیٔ شوق | شیح شیری
wamandagi-e-shauq

نظم

واماندگیٔ شوق

شہریار

;

کھڑی رہو
اسی جگہ اسی طرح کھڑی رہو

سفید برف کی چٹان قطرہ قطرہ گل رہی ہے
گلنے دو

سیاہ اور طویل رات دھیرے دھرے ڈھل رہی ہے
ڈھلنے دو

مری نگاہ کے حصار میں یوں ہی کھڑی رہو
میں تم سے اور دور ہو رہا ہوں مجھ سے مت ڈرو

ان انگلیوں پہ اوس کے نشان تھے جو مٹ گئے
لبوں پہ ایک اجنبی کا نام تھا جو بجھ گیا

ہرن کی آنکھ خوف کی چمک سے بھی تہی ہوئی
درندے جنگلوں کو چھوڑ کر کہیں چلے گئے

کھڑی رہو
اسی جگہ اسی طرح کھڑی رہو