EN हिंदी
امید و بیم | شیح شیری
ummid o bim

نظم

امید و بیم

شہریار

;

میں نے اکثر انہیں آنکھوں کے دریچے سے تجھے
جھانکتے دیکھا ہے

جب لغزش انفاس بڑھی
تند و پر شور صداؤں کا ہجوم

نور افروز خلاؤں سے ہم آغوش ہوا
میں نے اکثر انہیں آنکھوں کے دریچے میں تجھے

ڈوبتے دیکھا ہے
جب تلخئی احساس گھٹی

خامشی رخت سفر باندھ چکی
تند و پر شور صداؤں کا ہجوم

ظلمت انگیز زمیں دوز گپھاؤں کا جگر
چیر کے

اونگھتی تنہائی میں تحلیل ہوا
میں نے تو نے انہیں آنکھوں کے دریچے کے قریب

روشنی روتے ہوئے نور کے میناروں کو
اشک بنتے ہوئے گرتے ہوئے دیکھا ہے

تو کیوں
آندھیاں چلنے لگیں

خوف سے کانپ اٹھیں باز دریچوں کی لویں؟