EN हिंदी
تم اپنی سبز آنکھیں بند کر لو | شیح شیری
tum apni sabz aankhen band kar lo

نظم

تم اپنی سبز آنکھیں بند کر لو

شہرام سرمدی

;

بدلتی رت
مرے ماتھے پہ جو لکھے گی

وہ سب جانتا ہوں میں
کہ میں نے اپنے والد کی

جوانی کی وہ تصویریں
بہت ہی غور سے دیکھی ہیں

جن میں وہ
کسی کی یاد کی پرچھائیوں کو

اپنی آنکھوں میں چھپائے
آسماں کو تک رہے ہیں

اب وہ آنکھیں میری آنکھیں ہیں
تم اپنی سبز آنکھیں بند کر لو