EN हिंदी
تو کیا مرنا بھی اب ممکن نہیں ہے | شیح شیری
to kya marna bhi ab mumkin nahin hai

نظم

تو کیا مرنا بھی اب ممکن نہیں ہے

شارق کیفی

;

تو کیا مرنا بھی اب ممکن نہیں ہے؟
یہ میں ہوں کیا؟

جو سب ہم راہیوں سے
بے سبب لڑتا جھگڑتا پھر رہا ہوں

سیٹ کی خاطر
اک ایسی ٹرین میں

چنا تھا جس کو تھوڑی دیر پہلے
خودکشی کرنے کو میں نے