تو کیا مرنا بھی اب ممکن نہیں ہے؟
یہ میں ہوں کیا؟
جو سب ہم راہیوں سے
بے سبب لڑتا جھگڑتا پھر رہا ہوں
سیٹ کی خاطر
اک ایسی ٹرین میں
چنا تھا جس کو تھوڑی دیر پہلے
خودکشی کرنے کو میں نے
نظم
تو کیا مرنا بھی اب ممکن نہیں ہے
شارق کیفی
نظم
شارق کیفی
تو کیا مرنا بھی اب ممکن نہیں ہے؟
یہ میں ہوں کیا؟
جو سب ہم راہیوں سے
بے سبب لڑتا جھگڑتا پھر رہا ہوں
سیٹ کی خاطر
اک ایسی ٹرین میں
چنا تھا جس کو تھوڑی دیر پہلے
خودکشی کرنے کو میں نے