EN हिंदी
تسلسل | شیح شیری
tasalsul

نظم

تسلسل

سلام ؔمچھلی شہری

;

ٹھہر جاؤ انہیں گاتی ہوئی پر نور راہوں میں
اور اک لمحے کو یہ سوچو

ہرے شیتل منوہر کتنے جنگل آج ویراں ہے
وہ کیسی لہلہاتی کھیتیاں تھیں اب جو پنہاں ہیں

وہ منظر کتنے دل کش تھے جو اب یاد گریزاں ہیں
بس اک لمحے کو یہ سوچو

نہ جانے کتنی نعشوں کو کچل کر آج لائے ہو
نئی تہذیب کی ان جنتوں میں

جلوہ گاہوں میں
سنو انساں ہوں

اور روز ازل ہی سے
مری تخلیق اور تعمیر کے جلوے فروزاں ہیں

میں جب مرتا ہوں
تب اک زندگی آباد ہوتی ہے