EN हिंदी
ترغیب | شیح شیری
targhib

نظم

ترغیب

ساقی فاروقی

;

یہ ایک لمحہ جو اپنے ہاتھوں میں چاند سورج لیے کھڑا ہے
مجھے اشاروں سے کہہ رہا ہے

وہ میرے ہم زاد میرے بھائی
جو پتیوں کی طرح سے کمھلا کے زرد ہو کے

تمہارے قدموں میں آ گرے ہیں
دریدہ یادوں کے قافلے ہیں

وہ میرے ہم نام میرے ساتھی
جو کونپلوں کی طرح سے پھوٹیں گے

خوشبوؤں کی طرح چلیں گے
نئے سرابوں کے سلسلے ہیں

جو بیت جاتا ہے وہ فنا ہے
جو ہونے والا ہے وہ فنا ہے

یہ کیا کہ تم آنسوؤں میں ڈوبے ہوئے کھڑے ہو
ہزار بیدار لذتوں کو خراج دینے سے ڈر رہے ہو

یہ میری آنکھوں ہیں میری آنکھوں میں
اپنی آنکھوں کے رنگ بھر دو

چلو مجھے لا زوال کر دو
یہ ایک قطرہ جو زندگی کے سمندروں سے چھلک رہا ہے

مری شکستوں کی ابتدا ہے