EN हिंदी
تنہائی میرا لباس ہے | شیح شیری
tanhai mera libas hai

نظم

تنہائی میرا لباس ہے

شبنم عشائی

;

رشتے میرے من کی
اترن ہے

قربتوں کا لمس
دائمی نہیں

تنہائی کا لمس
سچا ہے

پر من پگلا ہے
بچے جیسے روتا ہے

محبت پہننا چاہتا ہے
دل کی محبت

رات کو سڑکوں پہ بکتے
غباروں جیسے ہوتی ہے

جس کی گیس
آدھی رات کو گھر پہنچنے تک

نکل جاتی ہے
جانتی ہوں

پر من پگلا ہے
بچے جیسے روتا ہے