EN हिंदी
سرخ گلاب اور بدر منیر | شیح شیری
surKH gulab aur badar-e-munir

نظم

سرخ گلاب اور بدر منیر

ساقی فاروقی

;

اے دل پہلے بھی تنہا تھے، اے دل ہم تنہا آج بھی ہیں
اور ان زخموں اور داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیں

جو زخم کہ سرخ گلاب ہوئے، جو داغ کہ بدر منیر ہوئے
اس طرح سے کب تک جینا ہے، میں ہار گیا اس جینے سے

کوئی ابر اڑے کسی قلزم سے رس برسے مرے ویرانے پر
کوئی جاگتا ہو کوئی کڑھتا ہو مرے دیر سے واپس آنے پر

کوئی سانس بھرے مرے پہلو میں کوئی ہاتھ دھرے مرے شانے پر
اور دبے دبے لہجے میں کہے تم نے اب تک بڑے درد سہے

تم تنہا تنہا جلتے رہے تم تنہا تنہا چلتے رہے
سنو تنہا چلنا کھیل نہیں، چلو آؤ مرے ہمراہ چلو

چلو نئے سفر پر چلتے ہیں، چلو مجھے بنا کے گواہ چلو