سرپٹ بھاگتے آدمیوں کے
سائے کٹ کر
ریل کے ڈبوں کی قبروں میں گرتے جائیں
ہانپتے پہیے
سمتوں کے گونگے ساگر میں
شور مچائیں
آنکھوں میں آنسو لہرائیں
ہونٹوں پر بوسے کمھلائیں
روح الجھتی جائے
سوچ رہا ہوں
اپنے دھیان کا پردہ کھینچ کے
سب چہروں کے چاند بجھا دوں
سب سمتوں اور سب رستوں کو چکمہ دوں
اور کہیں نہ جاؤں
نظم
سائے کا سفر
ساقی فاروقی

