وہ اندھیری رات کی چاپ تھی
جو گزر گئی
کبھی کھڑکیوں پہ نہ جھک سکی
کسی راستے میں نہ رک سکی
اسے جانے کس کی تلاش تھی
مری آنکھ اوس سے تر رہی ہے
مجھے خواب بننے کی لت رہی
کبھی ایک سونی سی رہ گزر پہ کھڑا تھا میں
کبھی دور ریل کی پٹریوں پہ پڑا تھا میں
وہ کسی کے جسم کی چاپ تھی
جو گزر گئی
اسے جانے کس کی تلاش تھی
مرے دل کے دشت کی ریت ہی میں کھلی تھی وہ
مجھے اک گلی میں ملی تھی وہ
اسے مجھ سے شوق وصال تھا
مرے خواب مجھ سے خفا ہوئے
مجھے نیند آئی میں سو گیا
یہی رتجگوں کا زوال تھا
نظم
رتجگوں کا زوال
شہریار

