EN हिंदी
راکھ | شیح شیری
rakh

نظم

راکھ

سلیم احمد

;

مرے دونوں ہاتھوں میں کچھ بھی نہیں راکھ ہے
امیدوں کی جو آخری ساعتوں تک دھواں دے رہی تھیں

اور آنسو.....
لہو...

اور بچپن کے دن
یہ سب راکھ ہیں

میں اس راکھ کو اپنے چہرے پہ مل کے کھڑا ہوں