EN हिंदी
پرچھائیاں | شیح شیری
parchhaiyan

نظم

پرچھائیاں

فراق گورکھپوری

;

۱
یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہک

یہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤں
وہ کچھ سلگتے ہوئے کچھ سلگنے والے الاؤ

سیاہیوں کا دبے پاؤں آسماں سے نزول
لٹوں کو کھول دے جس طرح شام کی دیوی

پرانے وقت کے برگد کی یہ اداس جٹائیں
قریب و دور یہ گو دھول کی ابھرتی گھٹائیں

یہ کائنات کا ٹھہراؤ یہ اتھاہ سکوت
یہ نیم تیرہ فضا روز گرم کا تابوت

دھواں دھواں سی زمیں ہے گھلا گھلا سا فلک
۲

یہ چاندنی یہ ہوائیں یہ شاخ گل کی لچک
یہ دور بادہ یہ ساز خموش فطرت کے

سنائی دینے لگی جگمگاتے سینوں میں
دلوں کے نازک و شفاف آبگینوں میں

ترے خیال کی پڑتی ہوئی کرن کی کھنک
۳

یہ رات چھنتی ہواؤں کی سوندھی سوندھی مہک
یہ کھیت کرتی ہوئی چاندنی کی نرم دمک

سگندھ رات کی رانی کی جب مچلتی ہے
فضا میں روح طرب کروٹیں بدلتی ہے

یہ روپ سر سے قدم تک حسین جیسے گناہ
یہ عارضوں کی دمک یہ فسون چشم سیاہ

یہ دھج نہ دے جو اجنتا کی صنعتوں کو پناہ
یہ سینہ پڑ ہی گئی دیو لوک کی بھی نگاہ

یہ سر زمین سے آکاش کی پرستش گاہ
اتارتے ہیں تری آرتی ستارہ و ماہ

سجل بدن کی بیاں کس طرح ہو کیفیت
سرسوتی کے بجاتے ہوئے ستار کی گت

جمال یار ترے گلستاں کی رہ رہ کے
جبین ناز تری کہکشاں کی رہ رہ کے

دلوں میں آئینہ در آئینہ سہانی جھلک
۴

یہ چھب یہ روپ یہ جوبن یہ سج یہ دھج یہ لہک
چمکتے تاروں کی کرنوں کی نرم نرم پھوار

یہ رسمساتے بدن کا اٹھان اور یہ ابھار
فضا کے آئینہ میں جیسے لہلہائے بہار

یہ بے قرار یہ بے اختیار جوش نمود
کہ جیسے نور کا فوارہ ہو شفق آلود

یہ جلوے پیکر شب-تاب کے یہ بزم شہود
یہ مستیاں کہ مئے صاف و درد سب بے بود

خجل ہو لعل یمن عضو عضو کی وہ ڈلک
۵

بس اک ستارۂ شنگرف کی جبیں پہ جھمک
وہ چال جس سے لبالب گلابیاں چھلکیں

سکوں نما خم ابرو یہ ادھ کھلیں پلکیں
ہر اک نگاہ سے ایمن کی بجلیاں لپکیں

یہ آنکھ جس میں کئی آسماں دکھائی پڑیں
اڑا دیں ہوش وہ کانوں کی سادہ سادہ لویں

گھٹائیں وجد میں آئیں یہ گیسوؤں کی لٹک
۶

یہ کیف و رنگ نظارہ یہ بجلیوں کی لپک
کہ جیسے کرشن سے رادھا کی آنکھ اشارے کرے

وہ شوخ اشارے کہ ربانیت بھی جائے جھپک
جمال سر سے قدم تک تمام شعلہ ہے

سکون جنبش و رم تک تمام شعلہ ہے
مگر وہ شعلہ کہ آنکھوں میں ڈال دے ٹھنڈک

۷
یہ رات نیند میں ڈوبے ہوئے سے ہیں دیپک

فضا میں بجھ گئے اڑ اڑ کے جگنوؤں کے شرار
کچھ اور تاروں کی آنکھوں کا بڑھ چلا ہے خمار

فسردہ چھٹکی ہوئی چاندنی کا دھندلا غبار
یہ بھیگی بھیگی اداہٹ یہ بھیگا بھیگا نور

کہ جیسے چشمۂ ظلمات میں جلے کافور
یہ ڈھلتی رات ستاروں کے قلب کا یہ گداز

خنک فضا میں ترا شبنمی تبسم ناز
جھلک جمال کی تعبیر خواب آئینہ ساز

جہاں سے جسم کو دیکھیں تمام ناز و نیاز
جہاں نگاہ ٹھہر جائے راز اندر راز

سکوت نیم شبی لہلہے بدن کا نکھار
کہ جیسے نیند کی وادی میں جاگتا سنسار

ہے بزم ماہ کہ پرچھائیوں کی بستی ہے
فضا کی اوٹ سے وہ خامشی برستی ہے

کہ بوند بوند سے پیدا ہو گوش و دل میں کھنک
۸

کسی خیال میں ہے غرق چاندنی کی چمک
ہوائیں نیند کے کھیتوں سے جیسے آتی ہوں

حیات و موت میں سرگوشیاں سی ہوتی ہیں
کروڑوں سال کے جاگے ستارے نم دیدہ

سیاہ گیسوؤں کے سانپ نیم خوابیدہ
یہ پچھلی رات یہ رگ رگ میں نرم نرم کسک