EN हिंदी
نقطہ | شیح شیری
nuqta

نظم

نقطہ

سلیم احمد

;

ہر طرف سے انفرادی جبر کی یلغار ہے
کن محاذوں پر لڑے تنہا دفاعی آدمی

میں سمٹتا جا رہا ہوں ایک نقطہ کی طرح
میرے اندر مر رہا ہے اجتماعی آدمی