EN हिंदी
نیند کا فرشتہ | شیح شیری
nind ka farishta

نظم

نیند کا فرشتہ

ثروت حسین

;

زمیں اطراف کی کالی ہوئی جلنے لگے دیوے
ہوائیں خشک پتوں کو گرا کر سو گئیں شاید

فرشتہ نیند کا ناراض ہے مجھ سے یہ کہتا ہے
بہت دن سو لیے بے دار رہ کر بھی ذرا دیکھو

اذان فجر ہونے تک ستاروں کی ادا دیکھو