EN हिंदी
نظر بھر دیکھ لوں بس | شیح شیری
nazar bhar dekh lun bas

نظم

نظر بھر دیکھ لوں بس

شارق کیفی

;

پتہ ہے
تمہارے ساتھ

میرے ساتھ
کتنے اتفاق اک ساتھ ہوئے ہوں گے

تو یہ صورت بنی ہے
کہ ہم اک ساتھ سانسیں لے رہے ہیں

کہ ہم اک ساتھ ہیں اس وقت دنیا میں
یہی سب سے بڑا رشتہ ہے شاید مجھ میں تم میں

میں ایسا جانتا ہوں
کہ اس رشتے سے ہر انساں جو دنیا میں ہے رشتے دار ہے میرا

مگر ان رشتے داروں کو نہیں معلوم میرے
میں کیا لگتا ہوں ان کا

سو میں بھی
تعارف اس حوالے سے کبھی ان کو نہیں دیتا

مری خواہش بس اتنی ہے کہ میں جانے سے پہلے اس جہاں سے
زیادہ سے زیادہ اپنے لوگوں کو نظر بھر دیکھ لوں بس

تو چھو کر دیکھ لوں بس
سمجھ میں آ گیا اب

سحر سے شام تک میں کس لیے سڑکوں پہ پھرتا ہوں
میں کھڑکی سے لگی اک سیٹ کی خاطر سفر میں

کسی بچے کی صورت کیوں جھگڑتا ہوں