EN हिंदी
نیا افق | شیح شیری
naya ufaq

نظم

نیا افق

شہریار

;

کیا تم کو یہ پتہ ہے
اے ناسمجھ رفیقو

روز ازل سے جس پر
تم گامزن رہے ہو

وہ راستہ خلا کی
سرحد سے جا ملا ہے

مشعل جلاؤ دیکھو
بپھری ہوئی ہوا میں

آئینۂ صدا میں
چہرہ کسی افق کا

پھر سے ابھر رہا ہے