EN हिंदी
نیا مکان | شیح شیری
naya makan

نظم

نیا مکان

سلیم احمد

;

نئے امکاں کو صورت دے رہا ہوں
گرا کر خود در و دیوار اپنے

میں اپنے گھر کو وسعت دے رہا ہوں