کیا سوچتی ہو
دیوار فراموشی سے ادھر کیا دیکھتی ہو
آئینہ خواب میں آنے والے لمحوں کے منظر دیکھو
آنگن میں پرانے نیم کے پیڑ کے سائے میں
بھیو کے جہاز میں بیٹھی ہوئی ننھی چڑیا
کیوں اڑتی نہیں
جنگل کی طرف جانے والی وہ ایک اکیلی پگڈنڈی
کیوں مڑتی نہیں
ٹوٹی زنجیر صداؤں کی کیوں جڑتی نہیں
اک سرخ گلاب لگا لو اپنے جوڑے میں
اور پھر سوچو
نظم
نجمہؔ کے لیے ایک نظم
شہریار

