وضو جائے تو جائے
فرشتے کچھ بھی لکھ لیں نامۂ اعمال میں میرے
مگر منہ سے مرے گالی تو نکلے گی
اگر اس تولیے میں چیونٹیاں ہوں گی
تھکن سے چور ہو کر
جس سے ماتھے کا پسینہ پونچھتا ہوں میں
نظم
مجرم ہونے کی مجبوری
شارق کیفی
نظم
شارق کیفی
وضو جائے تو جائے
فرشتے کچھ بھی لکھ لیں نامۂ اعمال میں میرے
مگر منہ سے مرے گالی تو نکلے گی
اگر اس تولیے میں چیونٹیاں ہوں گی
تھکن سے چور ہو کر
جس سے ماتھے کا پسینہ پونچھتا ہوں میں