EN हिंदी
مجرم ہونے کی مجبوری | شیح شیری
mujrim hone ki majburi

نظم

مجرم ہونے کی مجبوری

شارق کیفی

;

وضو جائے تو جائے
فرشتے کچھ بھی لکھ لیں نامۂ اعمال میں میرے

مگر منہ سے مرے گالی تو نکلے گی
اگر اس تولیے میں چیونٹیاں ہوں گی

تھکن سے چور ہو کر
جس سے ماتھے کا پسینہ پونچھتا ہوں میں