EN हिंदी
میری زمیں | شیح شیری
meri zamin

نظم

میری زمیں

شہریار

;

زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کی صورت
ریگ کے سیل میں ایک بگولہ

ہانپ رہا ہے
اپنے وجود سے خوف زدہ ہے

گرد و غبار خواب سے
دھند کا ننھا نقطہ پھیل رہا ہے

اور افق اس کی زد میں ہے
میری آنکھیں دشت خلا میں

نور کی ایک لکیر کو بنتا دیکھ رہی ہیں
لیکن میں یہ سوچ رہا ہوں

میری زمیں کس کی حد میں ہے