بہت گڈمڈ تھے
روز و شب کے وہ سب تانے بانے اور
نہ میں مشاق تھا ایسا
کہ چادر کوئی بن لیتا
مگر محصور تھا
اور جانتا تھا یہ مشقت
کاٹنا قسمت میں آیا ہے
سو جیسے بن پڑا یہ کام بھی پورا کیا میں نے
پہ اب جب دیکھتا ہوں
اپنے روز و شب کا حاصل
یعنی وہ چادر
تو کہتا ہوں
کہ اے لوگو!
اسے ہم راہ میرے دفن کر دینا
کوئی پوچھے تو کہہ دینا
ارے چھوڑو چلو اک چائے پیتے ہیں
نظم
محصور تھا
شہرام سرمدی

