بھونکنا چاہتا ہوں
اپنے اندر کے کتے پہ میں
زور سے بھونکنا چاہتا ہوں
مگر یہ بھی ممکن نہیں
بھونک پانا تو دور
گلے سے مرے اب تو دو گھونٹ پانی اترنا بھی ممکن نہیں
اس کو کہتے ہیں کتے کی موت
آب زم زم
گلو کوز کی بوتلوں سے چڑھاتے ہوئے
نبض بھی ہنس رہی ہے
نظم
کتے کی موت
شارق کیفی

