EN हिंदी
خواب نہیں دیکھا ہے | شیح شیری
KHwab nahin dekha hai

نظم

خواب نہیں دیکھا ہے

وسیم بریلوی

;

میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے
رات کھلنے کا گلابوں سے مہک آنے کا

اوس کی بوندوں میں سورج کے سما جانے کا
چاند سی مٹی کے ذروں سے صدا آنے کا

شہر سے دور کسی گاؤں میں رہ جانے کا
کھیت کھلیانوں میں باغوں میں کہیں گانے کا

صبح گھر چھوڑنے کا دیر سے گھر آنے کا
بہتے جھرنوں کی کھنکتی ہوئی آوازوں کا

چہچہاتی ہوئی چڑیوں سے لدی شاخوں کا
نرگسی آنکھوں میں ہنستی ہوئی نادانی کا

مسکراتے ہوئے چہرے کی غزل خوانی کا
تیرا ہو جانے ترے پیار میں کھو جانے کا

تیرا کہلانے کا تیرا ہی نظر آنے کا
میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے

ہاتھ رکھ دے مری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے