EN हिंदी
ہنڈولا | شیح شیری
hinDola

نظم

ہنڈولا

فراق گورکھپوری

;

دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دم
بہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کا

اسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپن
اسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نے

کسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھا
اسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلا

یہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھا
کسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گی

یہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغ
یہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاند

یہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزح
یہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوس

ہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارے
انہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کا

سنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھا
بھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔ

جنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔ
کنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹ

موہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کے
بنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھے

اسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھی
ہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھے

سرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھا
یہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کے

انہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کا
اسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔ

رحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نے
انہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھے

اسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔ
ذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگا

بھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میں
ان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہو

اہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نے
یہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولے

اسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کی
انہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھے

اسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گے
ملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داس

انہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولی
کبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کی

اسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلا
اسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھی

ٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میں
انیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہ

یہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔ
یہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معمار

اسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کا
یہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیں

یہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائی
یہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلا

یہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیں
یہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیں

یہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیں
لپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کے

اسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونت
اڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سے

اسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیں
پلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچے

مجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیں
اسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئے

زمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کی
اس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیں

یہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیں
اسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنون

فراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمن
اور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نے

یہیں رموز خرام سکوں نما سیکھے
نسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑی

یہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیں
وہ بے قرار سکوں زا ترنم سحری

وہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلے
انہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھے

لوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیات
جنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوا

بہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھا
اسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شام

اسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہے
تمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبح

سناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کی
دل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیں

ہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میں
ہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکے

مچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑی
لہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھا

محلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرے
ہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتے

چہار سمت محلے کے گوشے گوشے میں
فضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گے

اگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھی
بظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپن

یہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایک
وہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خال

ادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھی
غرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کے

مجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤ
ہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاں

دل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھا
اٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کو

مجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھی
کچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھے

کہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپن
کئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھے

بطون غیب سے میرے شعور اصغر کو
ہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہ

کسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیز
مرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوار

چبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیں
وہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بول

وہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیں
بدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکی

غروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادو
شفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سے

جواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیں
شجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیا

سہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوں
علی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویں

کسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سے
وہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤ

تھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتار
ہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیں

وہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوں
سکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیں

غرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پر
مجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھا

ہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیت
مرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئی

لیے ربوبیت کائنات کا احساس
ہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپ

ہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرت
ہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زار

کہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوں
مرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہر

میں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھا
وفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نم

مجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سے
کہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثر

کسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروا
نہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلی

یہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساس
دعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوام

کہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پر
ہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاں

کہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھا
کہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتی

سے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہے
انہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموز

انہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیات
انہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریں

رموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کے
کہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلب

ہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبق
وہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میں

وہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتری
شکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانی

وہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کی
وہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھا

وطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باس
وفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنی

وہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئے
بلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جانا

وہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمنا
غم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کی

شعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیم
کہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائے

کئی محیر ادراک دیو مالائیں
ہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگر

کروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھا
میں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سے

کہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولت
فسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہے

میں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کے
بسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سے

کہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میں
مرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریح

فسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھا
فسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملے

فسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیا
غم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئی

فسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیں
یہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانے

ذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثر
محلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کے

کچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیات
جوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولی

مگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کے
یہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیں

کہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانی
یہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھے

غرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریں
ندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کے

یہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھا
میں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھا

جو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورت
مجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھا

تو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانی
کچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھا

شگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کا
کہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گی

اک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمال
اور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزی

غم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرت
اک انتشار سکوں اضطراب پیار عتاب

وہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرور
کبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائی

وہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھی
مری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑے

شروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھ
مرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیت

رگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انار
ندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثار

وفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھا
کہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میں

وہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہو
وہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائے

ندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوں
جوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئی

کہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیل
وہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئے

وہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاں
وہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کا

رگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکے
کہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیں

وہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیں
بلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نما

اور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سے
جو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیات

ہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھے
سیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میں

وہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادی
مرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کی

لٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میں
ندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کی

بلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمال
تلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصل

کہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستی
وہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھا

ندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنی
ز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغ

خبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابم
نہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرے

ثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میں
میں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کی

میں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کو
یہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤں

بہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑے
میں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہ

تلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میں
رندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہے

نئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کو
بڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیم

مجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیں
میری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیم

میں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرت
نہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیا

مگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزار
لرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹا

بچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلی
اسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباب

بقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہ
خود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہے

یہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئی
دل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدم

مری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھی
نہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاں

ہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکے
حیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنا

زمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سے
مری صفا مرے تحت الشعور کی عصمت

تخیلات کی دوشیزگی کا رد عمل
جوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذبات

سیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میری
یہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گداز

بغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاک
غرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسی

یہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہ
قبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیات

اس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگی
ہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤ

یہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میں
قریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینت

نظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیات
بہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سی

یہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونین
ہر اضطراب میں روح سکون بے پایاں

زمانۂ گزراں میں دوام کا سرگم
یہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئی

کسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئی
یہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میں

فلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کو
وہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہے

یہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریت
یہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسی

لطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئی
بہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشی

بشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیں
ابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہ

غم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتا
کہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کی

مرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیں
سکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریں

یہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوں
اسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہے

یہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پر
انہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخر

زمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دم
اگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کا

یہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیں
ہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکانات

مگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہے
نظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہے

رویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہے
کسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کو

کسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائے
خراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سے

بچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کو
وہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کو

کروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہے
چرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاں

کہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملے
چرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کی

جو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیں
وہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کی

ندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائے
وہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگی

اداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگی
وہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امید

وہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوری
وہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیم

وہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سے
وہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئے

وہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکر
وہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کے

ہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلا
جو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیا

سماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھن
وہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میں

ہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیم
ملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کو

نکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سے
یہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گے

میں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاری
کروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغا

نصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پر
بجائے علم جہالت کا اکتساب کریں

یہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیم
دماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانی

ہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہے
وہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیں

وہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کے
زمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کا

کروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہے
ہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیں

کچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہار
تو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھی

کہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں