EN हिंदी
دنیا | شیح شیری
duniya

نظم

دنیا

ساقی فاروقی

;

اب یاد نہیں سینے میں کہیں
اک سورج تھا سو ڈوب گیا

اب اپنا دل ہے کھوٹ بھرا
دنیا کو بدلنے اٹھے تھے

دنیا نے بدل ڈالا کہ نہیں