EN हिंदी
دشت وفا | شیح شیری
dasht-e-wafa

نظم

دشت وفا

احمد ندیم قاسمی

;

دوست کہتے ہیں ترے دشت وفا میں کیسے
اتنی خوشبو ہے مہکتا ہو گلستاں جیسے

گو بڑی چیز ہے غم خواریٔ ارباب وفا
کتنے بیگانۂ آئین وفا ہیں یہ لوگ

زخم در زخم محبت کے چمن زار میں بھی
فقط اک غنچۂ منطق کے گدا ہیں یہ لوگ

میں انہیں گلشن احساس دکھاؤں کیسے
جن کی پرواز بصیرت پر بلبل تک ہے

وہ نہ دیکھیں گے کبھی حد نظر سے آگے
اور مری حد نظر حد تخیل تک ہے

دل کے بھیدوں کو بھی منطق میں جو الجھاتے ہیں
یوں سمجھ لیں کہ ببولوں میں بھی پھول آتے ہیں