EN हिंदी
بستی کی لڑکیوں کے نام | شیح شیری
basti ki laDkiyon ke nam

نظم

بستی کی لڑکیوں کے نام

اختر شیرانی

;

چل اے نسیم صحرا روح و روان صحرا
میرا پیام لے جا سوئے بتان صحرا

صحرائی مہوشوں کی خدمت میں جا کے کہنا
بھولے نہیں تمہیں ہم اے دختران صحرا

گر بس چلے تو آئیں اور درد دل سنائیں
تم کو گلے لگائیں ہم پھر میان صحرا

تم نجد میں پریشاں شہروں میں ہم ہیں حیراں
اللہ کی اماں ہو تم پر بتان صحرا

تم اس طرح غموں سے بے حال ہو رہی ہو
ہم اس طرف ہیں مضطر دامن کشان صحرا

ہم پاس آئیں کیوں کر تم کو بلائیں کیوں کر
یہ دکھ مٹائیں کیوں کر واماندگان‌ صحرا

بیتاب ہیں الم سے بے خواب رنج و غم سے
کیا پوچھتی ہو ہم سے اے دلبران صحرا

تم یاد کر رہی ہو بیداد کر رہی ہو
برباد کر رہی ہو اے گلرخان‌ صحرا

یہ کیا کہا کہ تم ہو رنگینیوں کے خوگر
غمگیں ہیں تم سے بڑھ کر اے غمکشان‌ صحرا

یہ رات یہ گھٹائیں یہ شور یہ ہوائیں
بچھڑے ہوئے ملیں گے کیوں کر میان صحرا

شہروں کی زندگی سے ہم تنگ آ چکے ہیں
صحرا میں پھر بلا لو اے ساکنان صحرا

یاد‌ سموم ہو یا سرسر کے تند طوفاں
ڈرتے نہیں کسی سے دلدادگان صحرا

آبادیوں میں حاصل آزادیاں نہیں ہیں
آ جاؤ تم ہی اڑ کر او طائران صحرا

صحرا کی وسعتوں میں ہم کو نہ بھول جانا
او دختران صحرا او آہوان صحرا

اے ابر چپ نہ رہنا میرا فسانہ کہنا
مل جائے گر کہیں وہ سرو روان صحرا

دشتی کی دھن میں ساقی اک نغمۂ عراقی
ہاں پھر سنا بیاد گل چہرگان صحرا

آنکھوں میں بس رہا ہے نقش بتان صحرا
او داستاں سرا چھیڑ اک داستان صحرا

مستانہ جا رہا ہے پھر کاروان صحرا
ہاں جھوم کر حدی خواں اک داستان صحرا

دیہات کی فضائیں آنکھوں میں پھر رہی ہیں
دل میں سما رہی ہے یاد بتان صحرا

نظروں پہ چھا رہا ہے وہ چاندنی کا منظر
صحرا میں کھیلتی تھیں جب حوریان صحرا

وہ چاندنی کا موسم وہ بے خودی کا عالم
وہ نور کا سمندر ریگ روان صحرا

جلوے مہ‌ جواں کے وہ رنگ کارواں کے
وہ نغمے سارباں کے رقصاں میان صحرا

کیوں کر نہ یاد آئیں وہ سیم گوں فضائیں
وہ آسمان صحرا ماہ روان صحرا

وہ کم سنوں کے گانے وہ کھیل وہ ترانے
بے فکری کے فسانے ورد زبان صحرا

کھیتوں میں گھومتے تھے ہر گل کو چومتے تھے
مستی میں جھومتے تھے جب میکشان صحرا

وہ گاؤں وہ فضائیں وہ فصل وہ ہوائیں
وہ کھیت وہ گھٹائیں وہ آسمان صحرا

پھر یاد آ رہی ہیں پھر دل دکھا رہی ہیں
مجنوں بنا رہی ہیں لیلیٰ وشان صحرا

راتوں کو چھپ کے آنا اور شانے کو ہلانا
ہے یاد وہ جگانا ہم کو میان صحرا

وہ ان کی شوخ آنکھیں وہ ان کی سادہ نظریں
بے خود بنا رہی ہیں دوشیزگان صحرا

وہ عشق پیشہ ہوں میں جس کے جوان نغمے
گاتا ہے چاندنی میں ہر نوجوان صحرا

اک بدویت کا عاشق صحرائیت سے بے خود
اخترؔ بھی اپنی دھن میں ہے اک جوان صحرا