EN हिंदी
بدنام ہو رہا ہوں | شیح شیری
badnam ho raha hun

نظم

بدنام ہو رہا ہوں

اختر شیرانی

;

فریادئی جفائے ایام ہو رہا ہوں
پامال جور بخت ناکام ہو رہا ہوں

سرگشتۂ خیال انجام ہو رہا ہوں
بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

بد نام ہو رہا ہوں
سلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں
سلمیٰ سے دل لگا کر سلمیٰ سے دل لگا کر

اس حوروش کے غم میں دنیا و دیں گنوا کر
ہوش و حواس کھو کر صبر و سکوں لٹا کر

بیٹھے بٹھائے دل میں غم کی خلش بسا کر
ہر چیز کو بھلا کر

سلمیٰ سے دل لگا کر
بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

کہتی ہیں سب یہ کس کی تڑپا گئی ہے صورت
سلمیٰ کی شاید اس کے من بھا گئی ہے صورت

اور اس کے غم میں اتنی مرجھا گئی ہے صورت
مرجھا گئی ہے صورت کمھلا گئی ہے صورت

سنولا گئی ہے صورت
سلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں
پنگھٹ پہ جب کہ ساری ہوتی ہیں جمع آ کر

گاگر کو اپنی رکھ کر، گھونگھٹ اٹھا اٹھا کر
یہ قصہ چھیڑتی ہیں مجھ کو بتا بتا کر

سلمیٰ سے باتیں کرتے دیکھا ہے اس کو جا کر
ہم نے نظر بچا کر

سلمیٰ سے دل لگا کر
بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

راتوں کو گیت گانے جب مل کر آتی ہیں سب
تالاب کے کنارے دھومیں مچاتی ہیں سب

جنگل کی چاندنی میں منگل مناتی ہیں سب
تو میرے اور سلمیٰ کے گیت گاتی ہیں سب

اور ہنستی جاتی ہیں سب
سلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں
کھیتوں سے لوٹتی ہیں جب دن چھپے مکاں کو

تب راستے میں باہم وہ میری داستاں کو
دہرا کے چھیڑتی ہیں سلمیٰ کو میری جاں کو

اور وہ حیا کی ماری سی لیتی ہے زباں کو
کہ چھیڑے اس بیاں کو

سلمیٰ سے دل لگا کر
بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

کہتی ہے رحم کھا کر یوں ایک ماہ طلعت
یہ شہری نوجواں تھا کس درجہ خوبصورت

آنکھوں میں بس رہی ہے اب بھی وہ پہلی رنگت
دو دن میں آہ کیا ہے کیا ہو گئی ہے حالت

اللہ تیری قدرت
سلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں
اس شمع رو کا جب سے پروانہ بن گیا ہوں

بستی کی لڑکیوں میں افسانہ بن گیا ہوں
ہر ماہ وش کے لب کا پیمانہ بن گیا ہوں

دیوانہ ہو رہا ہوں دیوانہ بن گیا ہوں
دیوانہ بن گیا ہوں

سلمیٰ سے دل لگا کر
بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

ان کی زباں پہ میری جتنی کہانیاں ہیں
کیا جانیں یہ کہ دل کی سب مہربانیاں ہیں

کمسن ہیں بے خبر ہیں اٹھتی جوانیاں ہیں
کیا سمجھیں غم کے ہاتھوں کیوں سر گرانیاں ہیں

کیوں خوں فشانیاں ہیں
سلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں
ہر اک کے رحم کا یوں اظہار ہو رہا ہے

بے چارے کو یہ کیسا آزار ہو رہا ہے
دیکھے تو کوئی جانے بیمار ہو رہا ہے

کس درجہ زندگی سے بیزار ہو رہا ہے
ناچار ہو رہا ہے

سلمیٰ سے دل لگا کر
بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

اک پوچھتی ہے آ کر تم بے قرار کیوں ہو
کچھ تو ہمیں بتاؤ یوں دل فگار کیوں ہو

کیا روگ ہے کہو تو تم اشک بار کیوں ہو
دیوانے کیوں ہوئے ہو دیوانہ وار کیوں ہو

با حال زار کیوں ہو
سلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں
جاؤں شکار کو گر باہمرہان صحرا

کھیتوں سے گھورتی ہیں یوں دختران صحرا
بجلی کی روشنی کو جیسے میان صحرا

تاریک شب میں دیکھیں کچھ آہوان صحرا
حیرت کشان صحرا

سلمیٰ سے دل لگا کر
بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

اک شوخ چھیڑتی ہے اس طرح پاس آ کر
دیکھو وہ جا رہی ہے سلمیٰ نظر بچا کر

شرما کے مسکرا کر آنچل سے منہ چھپا کر
جاؤ نا پیچھے پیچھے دو باتیں کر لو جا کر

کھیتوں میں چھپ چھپا کر
سلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں
گویا ہمیں حسد سے کچھ نازنین نگاہیں

سلمیٰ کی بھا گئی ہیں کیوں دل نشیں نگاہیں
ان سے زیادہ دل کش ہیں یہ حسیں نگاہیں

القصہ ایک دل ہے سو خشمگیں نگاہیں
شوق آفریں نگاہیں

سلمیٰ سے دل لگا کر
بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

اک شوخ تازہ دارد سسرال سے گھر آ کر
سکھیوں سے پوچھتی ہے جس دم مجھے بتا کر

یہ کون ہے تو ظالم کہتی ہیں مسکرا کر
تم اس کا حال پوچھو سلمیٰ کے دل سے جا کر

یہ گیت اسے سنا کر
سلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں