EN हिंदी
اے میرے سارے لوگو | شیح شیری
ai mere sare logo

نظم

اے میرے سارے لوگو

احمد فراز

;

اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جو
اس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکی

اسی بندوق کی نالی ہے مری سمت کہ جو
اس سے پہلے مری شہہ رگ کا لہو چاٹ چکی

پھر وہی آگ در آئی ہے مری گلیوں میں
پھر مرے شہر میں بارود کی بو پھیلی ہے

پھر سے ''تو کون ہے میں کون ہوں'' آپس میں سوال
پھر وہی سوچ میان من و تو پھیلی ہے

مری بستی سے پرے بھی مرے دشمن ہوں گے
پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا

آشنا ہاتھ ہی اکثر مری جانب لپکے
میرے سینے میں سدا اپنا ہی خنجر اترا

پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا
پھر وہی عام ہوئیں اہل ریا کی باتیں

نعرۂ حب وطن مال تجارت کی طرح
جنس ارزاں کی طرح دین خدا کی باتیں

اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی
صبح وحشت کی طرح شام غریباں کی طرح

اس سے پہلے بھی تو پیمان وفا ٹوٹے تھے
شیشۂ دل کی طرح آئینۂ جاں کی طرح

پھر کہاں احمریں ہونٹوں پہ دعاؤں کے دئیے
پھر کہاں شبنمیں چہروں پہ رفاقت کی ردا

صندلیں پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئی
مرمریں ہاتھوں پہ جل بجھ گیا انگار حنا

دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا
شاخ بازو کے لیے زلف کا بادل رویا

مثل پیراہن گل پھر سے بدن چاک ہوئے
جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر

اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا دو نیم
نوک دشنہ سے کھچی تھی مری دھرتی پہ لکیر

آج ایسا نہیں ایسا نہیں ہونے دینا
اے مرے سوختہ جانو مرے پیارے لوگو

اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہوگی
میرے دلگیر مرے درد کے مارے لوگو

کسی غاصب کسی ظالم کسی قاتل کے لیے
خود کو تقسیم نہ کرنا مرے سارے لوگو