EN हिंदी
آزادی | شیح شیری
aazadi

نظم

آزادی

فراق گورکھپوری

;

مری صدا ہے گل شمع شام آزادی
سنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادی

لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے
اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی

مجھے بقا کی ضرورت نہیں کہ فانی ہوں
مری فنا سے ہے پیدا دوام آزادی

جو راج کرتے ہیں جمہوریت کے پردے میں
انہیں بھی ہے سر و سودائے خام آزادی

بنائیں گے نئی دنیا کسان اور مزدور
یہی سجائیں گے دیوان عام آزادی

فضا میں جلتے دلوں سے دھواں سا اٹھتا ہے
ارے یہ صبح غلامی یہ شام آزادی

یہ مہر و ماہ یہ تارے یہ بام ہفت افلاک
بہت بلند ہے ان سے مقام آزادی

فضائے شام و سحر میں شفق جھلکتی ہے
کہ جام میں ہے مئے لالہ فام آزادی

سیاہ خانۂ دنیا کی ظلمتیں ہیں دو رنگ
نہاں ہے صبح اسیری میں شام آزادی

سکوں کا نام نہ لے ہے وہ قید بے میعاد
ہے پے بہ پے حرکت میں قیام آزادی

یہ کاروان ہیں پسماندگان منزل کے
کہ رہروؤں میں یہی ہیں امام آزادی

دلوں میں اہل زمیں کے ہے نیو اس کی مگر
قصور خلد سے اونچا ہے بام آزادی

وہاں بھی خاک نشینوں نے جھنڈے گاڑ دیئے
ملا نہ اہل دول کو مقام آزادی

ہمارے زور سے زنجیر تیرگی ٹوٹی
ہمارا سوز ہے ماہ تمام آزادی

ترنم سحری دے رہا ہے جو چھپ کر
حریف صبح وطن ہے یہ شام آزادی

ہمارے سینے میں شعلے بھڑک رہے ہیں فراقؔ
ہماری سانس سے روشن ہے نام آزادی