EN हिंदी
زیست کی گرمیٔ بیدار بھی لایا سورج | شیح شیری
zist ki garmi-e-bedar bhi laya suraj

غزل

زیست کی گرمیٔ بیدار بھی لایا سورج

قتیل شفائی

;

زیست کی گرمیٔ بیدار بھی لایا سورج
کھل گئی آنکھ مری سر پہ جو آیا سورج

پھر شعاعوں نے مرے جسم پہ دستک دی ہے
پھر جگانے مرے احساس کو آیا سورج

کسی دلہن کے جھمکتے ہوئے جھومر کی طرح
رات نے صبح کے ماتھے پر سجایا سورج

شام کو روٹھ گیا تھا مجھے تڑپانے کو
صبح دم آپ مجھے ڈھونڈنے آیا سورج

کم نہ تھا اس کا یہ احسان کہ جاتے جاتے
کر گیا اور بھی لمبا مرا سایہ سورج

ڈالتے اس پہ کمندیں وہ کوئی چاند نہ تھا
سو جتن سب نے کئے ہاتھ نہ آیا سورج

خوب واقف تھا وہ انسان کے اندھے پن سے
جس نے بھی دن کے اجالے میں جلایا سورج

لوگ کہتے رہے سورج کو دکھائیں گے چراغ
اور ہی رنگ تھا جب سامنے آیا سورج

شب کو بھی روح کے آنگن میں رہی دھوپ قتیلؔ
چاند تاروں نے بھی آ کر نہ بجھایا سورج