EN हिंदी
وہ اک جھلک دکھا کے جدھر سے نکل گیا | شیح شیری
wo ek jhalak dikha ke jidhar se nikal gaya

غزل

وہ اک جھلک دکھا کے جدھر سے نکل گیا

ظہیر کاشمیری

;

وہ اک جھلک دکھا کے جدھر سے نکل گیا
اتنی تپش بڑھی کہ زمانہ پگھل گیا

اب دل سے کچھ کہو تو یہ دل مانتا نہیں
اے التفات یار تیرا وار چل گیا

ہر بزم اس نگاہ کے گرداب میں رہی
ہر دور اس مزاج کے سانچے میں ڈھل گیا

اب تو جنوں بھی اس کی طرف کھینچتا نہیں
اندھا رفیق کار بھی آنکھیں بدل گیا

وہ دور تھا تو ہجر کی گرمی سے تھے نڈھال
وہ آ گیا تو ہجر کا موسم نکل گیا

سونے پڑے ہیں دل کے در و بام اے ظہیرؔ
لاہور جب سے چھوڑ کے جان غزل گیا